ریسرچ کی اقسام: بنیادی سطح پر چار اہم زمرے
تعارف:
ریسرچ کو ایک یکسان اور یک رخا عمل سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ درحقیقت، تحقیق اپنے مقصد، طریقہ کار اور اطلاق کے لحاظ سے مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے۔ کسی بھی ریسرچ کے سفر کا آغاز کرنے سے پہلے، یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ آپ کس قسم کی ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کا رستہ واضح ہو جاتا ہے۔ آئیے، انتہائی بنیادی سطح پر ریسرچ کی چار بڑی اقسام کو سمجھتے ہیں۔
پہلا زمرہ: علم کے مقام کے لحاظ سے
1. تھیوریٹیکل ریسرچ (نظریاتی تحقیق)
یہ ریسرچ خیالات، تصورات اور نظریات کی دنیا میں ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد موجودہ علم میں اضافہ کرنا، نئے فکری فریم ورک تخلیق کرنا، یا مختلف نظریات کے درمیان تعلق دریافت کرنا ہوتا ہے۔
- خصوصیات:
- ڈیٹا کا ذریعہ: پہلے سے موجود تحریری مواد، جیسے کتابیں، تحقیقی مقالے، فلسفے اور تاریخی دستاویزات۔
- طریقہ کار: تنقیدی جائزہ، تقابلی مطالعہ، منطقی استدلال۔
- نتیجہ: ایک نیا نظریہ، ایک نئی تشریح، ایک فکری ماڈل۔
- مثال: “عصر حاضر میں اسلامی معاشیات کے تصورِ ربا پر جدید بینکاری نظام کے اثرات کا نظریاتی جائزہ۔”
2. پراکٹیکل/ایپلائیڈ ریسرچ (عملی تحقیق)
یہ ریسرچ عملی مسائل کو حل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کا تعلق براہ راست حقیقی دنیا سے ہوتا ہے اور اس کے نتائج کا فوری اطلاق ممکن ہوتا ہے۔
- خصوصیات:
- ڈیٹا کا ذریعہ: سروے، انٹرویوز، تجربات، زمینی مشاہدہ۔
- طریقہ کار: تجرباتی، مشاہداتی، یا سروے پر مبنی طریقے۔
- نتیجہ: ایک نیا پروڈکٹ، ایک علاج کا طریقہ، ایک پالیسی تجویز، ایک عملی حل۔
- مثال: “قدرتی آفات کے دوران رسائی والے علاقوں میں رابطہ بحال کرنے کے لیے ایک سستا اور موثر ریڈیو سسٹم ڈیزائن کرنا۔”
خلاصہ: تھیوریٹیکل ریسرچ “کیوں” اور “کس طرح سوچیں” کے بارے میں ہے، جبکہ پراکٹیکل ریسرچ “کیسے کریں” اور “کیا حل ہے” کے بارے میں ہے۔
دوسرا زمرہ: سیاق و سباق (Context) کے لحاظ سے
3. اکیڈمک ریسرچ (تعلیمی تحقیق)
یہ وہ تحقیق ہے جو تعلیمی اداروں (یونیورسٹیوں، کالجوں، تحقیقی مراکز) کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی ہدف علم کے دائرے میں شراکت کرنا اور ڈگریاں یا قابلیتیں حاصل کرنا ہوتا ہے۔
- خصوصیات:
- سیاق و سباق: تعلیمی ادارے، تحقیقی جرائد۔
- معیار: سخت طریقہ کار اور جائزے کے عمل سے گزرتی ہے۔
- ہدف سامعین: اسکالرز، طلبہ، تعلیمی برادری۔
- شکل: تھیسز، ڈیسٹریشن، تحقیقی مضامین۔
- مثال: کسی یونیورسٹی میں پڑھائی جانے والی پی ایچ ڈی کا مقالہ جس میں پاکستانی اردو شاعری کے ایک خاص دور کا تجزیہ کیا گیا ہو۔
4. مارکیٹ/بزنس ریسرچ (کاروباری تحقیق)
یہ تحقیق کاروباری فیصلوں کی راہنمائی کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کا مرکز صارف (گاہک)، مارکیٹ کے رجحانات اور مقابلہ ہوتا ہے۔
- خصوصیات:
- سیاق و سباق: کارپوریٹ دفاتر، مارکیٹنگ ایجنسیاں، کاروباری ادارے۔
- مقصد: منافع، مارکیٹ شیئر بڑھانا، گاہکوں کی تسکین۔
- ہدف سامعین: کمپنی مینیجمنٹ، سرمایہ کار، مارکیٹنگ ٹیمیں۔
- شکل: مارکیٹ رپورٹس، صارف کے رویے کا تجزیہ، مقابلے کا جائزہ۔
- مثال: “18-25 سال کے نوجوانوں میں آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز کے انتخاب میں سب سے اہم عوامل کا سروے۔”
خلاصہ: اکیڈمک ریسرچ علم کے لیے ہوتی ہے، مارکیٹ ریسرچ کاروبار اور منافع کے لیے۔
نیٹ ورکنگ: ان کا باہمی تعلق
یہ اقسام ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں ہیں۔ اکثر ان کا امتزاج ہوتا ہے۔
- ایک اکیڈمک تحقیق تھیوریٹیکل بھی ہو سکتی ہے (جیسے فلسفے کا مقالہ) اور پراکٹیکل بھی (جیسے انجینئرنگ کا تھیسس)۔
- ایک مارکیٹ ریسرچ کے نتائج کسی اکیڈمک آرٹیکل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
- ایک تھیوریٹیکل اقتصادی ماڈل مارکیٹ ریسرچ کے لیے فریم ورک فراہم کر سکتا ہے۔
اختتامیہ:
ریسرچ کی ان بنیادی اقسام کو سمجھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی سفر پر نکلنے سے پہلے نقشہ دیکھ لینا۔ یہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کہاں ہیں، آپ کا منزل کیا ہے، اور وہاں پہنچنے کا بہترین راستہ کون سا ہے۔ چاہے آپ طالب علم ہوں، پیشہ ور، یا کوئی تجسس رکھنے والا فرد، یہ جاننا آپ کے تحقیقی سفر کو پراعتماد اور مؤثر بنا دے گا۔
✅ آگے کا قدم:
اب جب کہ آپ نے ریسرچ کی اقسام جان لی ہیں، اگلا سبق یہ ہوگا کہ “ریسرچ کا مسئلہ یا سوال کیسے تلاش کریں؟” — یعنی تحقیق کا آغاز کیسے کیا جائے۔
ہمارے ساتھ اس سیکھنے کے سفر کو جاری رکھیں!
📘 ہمیں فالو کریں فیس بک پر: @pakinkpub
📷 انسٹاگرام پر ہمارے ساتھ جڑیں: @pakinkpub
📺 YouTube چینل سبسکرائب کریں: @PakInkPublications
📧 رابطہ: pakinkpub@gmail.com
🌐 مزید وسائل کے لیے: pakinkpub.com
علم کی روشنی کو پھیلانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ یہ معلومات ضرور شیئر کریں۔





